سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کے مبینہ انڈین میڈیا انٹرویو کا وائرل کلپ بحث کا موضوع بن گیا، جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے بھارتی وزیراعظم مودی سے پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور ٹو‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
*مُلک دُشمنی کی انتہا*
*نیازی کی بہن “نورین خان” نے*
*انڈیا میڈیا کو انٹروہو دیتے ہوٸے*
*مودی کو پاکستان پر سندور 2 آپریشن کا مطالبہ کر دیا۔**#پی_ٹی_آٸی_غدارِ_وطن* pic.twitter.com/5YQcn2QZ50
— OMI Butt (@omibutt_) November 29, 2025
دوسری جانب نورین خان نے اپنے بیان میں کہاکہ وائرل کلپ میں ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور اصل انٹرویوز میں وزیراعظم مودی یا ’آپریشن سندور‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرل کلپ میں استعمال ہونے والی باتیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے شامل کی گئی ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی وضاحت کی ہے کہ نورین نیازی نے وزیراعظم مودی یا آپریشن سندور کا ذکر نہیں کیا۔
فیکٹ پلس نے نورین خان کے انٹرویو کا تفصیلی جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ انہوں نے کسی بھی موقع پر وزیراعظم مودی یا ’آپریشن سندور‘ سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ اصل انٹرویو میں نورین خان نے عمران خان کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا اور بتایا کہ سابق وزیراعظم کو ’قید تنہائی‘ میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اہلخانہ کو ان کی صحت کے بارے میں مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا ہے اور جیل کے اندر حالات کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔
نورین خان نے یہ بھی کہاکہ عمران خان کے معاملے پر عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے اور صورتحال کسی کے قابو میں نہ رہنے کی حد تک جا سکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت اور فوجی قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ اہلخانہ اور قانونی ٹیم کو اطلاع نہیں دی جاتی کہ جیل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے اس وائرل کلپ کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ یہ کسی بھی سطح پر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ شوکت بسرا نے بھی ویڈیو کو اے آئی سے تیار شدہ اور جعلی قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے نورین خان کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ بہن ہونے کے ناطے ان کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا نہیں بلکہ عمران خان کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرنا تھا۔
یاد رہے کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی بتایا کہ اہل خانہ نے آخری بار 16 اکتوبر کو سابق وزیراعظم سے ملاقات کی تھی، اور اس کے بعد صرف ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دو مختصر ملاقاتوں کی اجازت دی گئی۔
یہ واقعہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیک ویڈیوز کے خطرے کی تازہ مثال ہے، جس میں سیاستدانوں کے بیانات یا حرکات کو تبدیل کر کے غلط بیانی اور تنازعات پیدا کیے جا سکتے ہیں، اور ایسے میں عوام میں سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔
نتائج:۔ نورین نیازی نے انڈین میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں آپریشن سندور ٹو کا مطالبہ نہیں کیا، یہ الفاظ اے آئی کی مدد سے بنائے گئے۔

