خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفرِیدی اور ایک طالبہ کے درمیان 3 فروری کو ہونے والے مکالمے کے بعد انٹرنیٹ پر ایک نوٹیفکیشن گردش کررہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے طالبہ کے والد کو ان کی سرکاری ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔
انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن جس پر 4 فروری کی تاریخ درج تھی، مبینہ طور پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری کے دفتر سے جاری بتایا گیا۔
اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم کے کلرک بشیر خان کو غیر حاضری اور محکمانہ انکوائری کا جواب نہ دینے پر نوکری سے نکال دیا گیا اور تمام مراعات ختم کردی گئیں۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے نوٹیفکیشن کے ساتھ یہ کیپشن شیئر کیا:
’سوال کیوں پوچھا؟؟؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ دور حکومت میں اس کی کارکردگی پر سوال کرنے والی پختون بیٹی فاطمہ کے والد کو خیبرپختونخوا حکومت نے نوکری سے معطل کر دیا، حکومتی کارکردگی پر سوال کرنا جرم ٹھہرا۔‘
سوال کیوں پوچھا؟؟؟
خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ دور حکومت میں اس کی کارکردگی پر سوال کرنے والی پختون بیٹی فاطمہ کے والد کو خیبرپختونخواہ حکومت نے نوکری سے معطل کر دیا.
خیبرپختونخواہ میں حکومتی کارکردگی پر سوال کرنا جرم ٹھہرا. pic.twitter.com/dWaFBbFGtu— عمران شاہین (@imshee67) February 4, 2026
نوٹیفکیشن پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کا نام اور مبینہ دستخط درج تھے۔
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور نوٹیفکیشن من گھڑت ہے۔
فاطمہ خان جن کی ویڈیو وزیراعلیٰ سے سوال کرنے پر وائرل ہوئی تھی، نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں بلکہ ڈاکٹر اخوان خان ہے اور وہ کبھی محکمہ تعلیم میں ملازم نہیں رہے بلکہ خیبرپختونخوا کے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔
چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نے بھی میڈیا کو بتایا کہ یہ دستاویز من گھڑت ہے اور حکومت کی جانب سے کبھی جاری نہیں کی گئی۔
نتائج:۔
مبینہ نوٹیفکیشن جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے سوال کرنے پر طالبہ کے والد کو ملازمت سے برطرف کیا گیا، جعلی ہے، حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔

