سوشل میڈیا پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منسوب ایک نوٹیفکیشن وائرل ہورہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قوانین کے مطابق ایک موبائل فون میں ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ 5 مختلف سمز استعمال کی جا سکتی ہیں۔
وائرل نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے اگر ایک موبائل میں 5 سے زیادہ سمز استعمال ہوئیں تو موبائل کا ’آئی ایم ای آئی‘ بلاک ہو سکتا ہے، اور نیٹ ورک سروس بند ہو جائےگی۔ اس لیے ایک موبائل میں بار بار سم بدلنے سے گریز کریں۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے۔ پی ٹی اے نے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ پوسٹ گمراہ کن ہے۔ ادارے کی جانب سے ایسی کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی گئی۔
The social media post in circulation is misleading. The Pakistan Telecommunication Authority (PTA) has not issued any such advisory. PTA remains vigilant regarding IMEI duplication/cloning and takes action as required, including blocking duplicate/cloned IMEIs, conducting raids… pic.twitter.com/cLU8VU4MWu
— PTA (@PTAofficialpk) August 25, 2025
ترجمان پی ٹی اے کے مطابق اتھارٹی ’آئی ایم ای آئی‘ کی ڈپلیکیشن یا کلوننگ پر کڑی نظر رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی ایم ای آئی بلاکنگ سے متعلق شکایات کی صورت میں صارفین پی ٹی اے کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CMS) کے ذریعے رجوع کر سکتے ہیں۔
(ویب لنک: https://complaint.pta.gov.pk/UserLogin.aspx)
پی ٹی اے نے عوام اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ صرف اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کردہ بیانات پر ہی انحصار کریں۔
نتائج:۔ پی ٹی اے نے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں کہ ایک موبائل میں ایک مہینے کے دوران 5 سے زیادہ سمز استعمال کرنے پر آئی ایم ای آئی نمبر بلاک ہو سکتا ہے۔ یہ فیک نیوز ہے۔

