پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح طامی کی پاکستان پہنچتے ہی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات اور عشائیے سے متعلق جواد نقوی کا دعویٰ فیکٹ پلس کی تحقیق میں غلط ثابت ہوا ہے۔
شیعہ عالم جواد نقوی نے اپنی گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کے نئے سفیر نے پاکستان پہنچتے ہی مفتیوں کو عشائیہ دیا اور انہیں ایسی سرگرمیوں کے لیے اکسایا جن سے ملک میں تشدد اور فرقہ واریت کی فضا دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم فیکٹ پلس کے مطابق سعودی سفیر ابھی پاکستان پہنچے ہی نہیں، نہ انہوں نے کسی مذہبی رہنما سے ملاقات کی اور نہ کسی عشائیے کی میزبانی کی۔ سعودی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
فیکٹ چیک: میں نے سعودی حکام سے تصدیق کی ہے کہ اب تک پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے سعودی سفیر میجر جنرل (ر) راجح بن طامی پاکستان پہنچے ہی نہیں ہیں نہ ہی انہوں نے مذہبی رہنماوں سے کوئی ملاقات کی نہ کوئی کھانا کھلایا ہے۔ یہ مکمل فیک نیوز ہے۔ pic.twitter.com/I9ByQKUVFz
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) September 21, 2026
فیکٹ پلس کی تحقیق کے مطابق جواد نقوی نے اپنے دعوے میں سعودی سفیر کی پاکستان آمد اور ان کی مبینہ مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے غلط معلومات پیش کیں۔
اس طرح سفیر کی جانب سے مذہبی رہنماؤں کو پاکستان میں مخصوص فضا پیدا کرنے کے لیے اکسانے کا الزام بھی حقائق پر مبنی نہیں۔
جواد نقوی نے اپنی گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ راجح طامی سعودی عرب کے سابق سفیر نواف بن سعید المالکی کی جگہ نئے سفیر تعینات ہوئے ہیں، جو پاکستان میں آتے ہی مذہبی طبقے کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان میں تشدد اور فرقہ واریت کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ ایسی سرگرمیاں ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کو سعودی عرب کی پراکسی بنانے اور خطے کے دوسرے ممالک کے اندرونی تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
فیکٹ پلس کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ جواد نقوی کے دعوے کا بنیادی حصہ، یعنی سعودی سفیر کی پاکستان آمد اور مذہبی رہنماؤں کے لیے عشائیے کا انعقاد فیک نیوز ہے۔
اس لیے ان دعوؤں کی بنیاد پر نوتعینات سعودی سفیر راجح طامی کی سرگرمیوں اور مبینہ مقاصد کے بارے میں قائم کیا گیا مؤقف بھی غلط معلومات پر مبنی قرار پاتا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی کو سبکدوش کرکے ڈاکٹر راجح طامی کو نیا سفیر تعینات کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے سعودی عرب اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، جن کے درمیان گہرے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، دراصل پاکستان میں فرقہ واریت جواد نقوی جیسے لوگ پھیلا رہے ہیں، جن کی جانب سے ایس من گھڑت دعوے کیے جارہے ہیں۔
نتائج:۔ پاکستان میں نوتعینات سعودی سفیر سے متعلق جواد نقوی کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں۔

