spot_img

فیکٹ چیک: ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر پر ڈبل گیم کا الزام عائد نہیں کیا

ایران اور امریکا کے درمیان اپریل میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پر ایران کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایکس، فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے دعوے کیے گئے، اور صارفین بغیر تحقیق آگے شیئر بھی کررہے ہیں۔

اس پوسٹ کے ساتھ فارسی زبان کی 26 سیکنڈ کی ایک ویڈیو بھی منسلک ہے، جس میں ایک نیوز اینکر گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ کلپ ایران کے سرکاری نیوز چینل IRINN کے ایک پروگرام کا حصہ تھا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے پس پردہ مذاکرات پر تجزیہ پیش کیا جا رہا تھا۔

فارسی آڈیو کے ترجمے سے معلوم ہوا کہ پروگرام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے 3 روزہ دورہ ایران کا ذکر ضرور کیا گیا، تاہم یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق پورے پروگرام میں کہیں بھی یہ بات نہیں کی گئی کہ پاکستانی آرمی چیف ایران کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔

مزید برآں پروگرام کے میزبان سرباز رضوی نے بھی سوشل میڈیا پر وضاحت جاری کرتے ہوئے وائرل دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔

ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہاکہ وہ خود اس پروگرام کے میزبان ہیں اور اردو بھی سمجھتے ہیں، جبکہ ویڈیو کے ساتھ لگایا گیا کیپشن حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔

ان کے مطابق پروگرام میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر ایران کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگایا گیا ہو۔

نتائج:۔ امریکا ایران مذاکرات کے دوران تہران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر پر ڈبل گیم کا الزام عائد نہیں کیا، یہ دعویٰ من گھڑت ہے۔

Author

تازہ ترین