سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ گردش کر رہا تھا کہ پنجاب حکومت نے ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد روک دیا ہے اور شہریوں کو جرمانے یا کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی نئی قانون سازی کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں، اور اس کے خلاف آج ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال بھی کی۔
’فیکٹ پلس‘ نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ پنجاب حکومت نے ٹریفک آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا ہے، تاہم ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں کچھ یقین دہانیاں ضرور کرائی گئی ہیں۔
دوسری جانب سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی یا تعطل کی منظوری نہیں دی۔
ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔ ایسی قیاس آرائیاں محض جھوٹ ہیں۔ وزیراعلی مریم نوازشریف نے آج ایک بارپھر پورے پنجاب میں ٹریفک قوانین سے متعلق قانون پر موثر اور سخت عمل درآمد کا حکم جاری کیا ہے۔ عمل نہ کرنے والے سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام اور…
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) December 8, 2025
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں قوانین کے مؤثر اور سخت نفاذ کی ہدایت جاری کی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے گی۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہاکہ سرکاری محکموں کو قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اہداف دیے گئے ہیں اور عوام میں آگاہی مہم کو بھی مزید تیز کیا جائے گا تاکہ ڈرائیوروں اور شہریوں تک درست معلومات پہنچ سکیں۔
اس وضاحت سے واضح ہو گیا ہے کہ ٹریفک آرڈیننس پر عمل جاری ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی پر کسی بھی سطح پر نرمی برداشت نہیں کی جائے گی اور سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا۔
نتائج:۔ یہ دعویٰ درست نہیں کہ پنجاب میں ٹریفک آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا گیا، یہ فیک نیوز ہے۔

