سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص کو پولیس کی موجودگی میں ایک خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ حالیہ ہے اور پولیس نے مداخلت نہیں کی، نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔
تھانہ وریام والا تحصیل شور کوٹ سٹی جھنگ میں پنجاب پولیس کا ایک اور عورت پر تشدد، لیڈی پولیس کانسٹیبل بھی چھوٹے بچوں کے سامنے خاتون پر تشدد کرتی رہی، مریم نواز اور آئی جی پنجاب کی بدمعاش فورس پوری مافیا بن چکی ہے!#PakistanUnderFascismpic.twitter.com/VCkAXQaxhc
— Qasim Khan Suri (@QasimKhanSuri) August 9, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو 23 اپریل 2025 کو پنجاب کے ضلع جھنگ میں پیش آنے والے ایک واقعے کی ہے۔
’تحصیل شور کوٹ کے پولیس اسٹیشن ریاں والا کی حدود میں زمین کے ایک تنازع کے دوران دو قریبی رشتے داروں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، اور پولیس بھی اس دوران موقع پر موجود تھی۔‘
ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی شناخت ذکا اللہ ولد حاجی احمد کے طور پر ہوئی ہے، جس نے شازیہ پروین زوجہ افتخار احمد کو تھپڑ مارا۔
ویڈیو سامنے آنے کے فوراً بعد ذکااللہ کو گرفتار کرلیا گیا، اور اس کے خلاف ایف آئی آر نمبر 205/25 بجرم دفعہ 354 تعزیرات پاکستان تھانہ وڑائچاں میں درج کی گئی۔
علاوہ ازیں موقع پر موجود اے ایس آئی محمد شفیق، کانسٹیبل محمد مرتضیٰ اور کانسٹیبل بشارت علی کو فوری طور پر معطل کرکے چارج شیٹ کردیا گیا۔
نتیجہ: ویڈیو اصلی مگر پرانی ہے، اور پولیس نے اس پر کارروائی کی ہے۔

