spot_img

فیکٹ چیک: کیا سیشن جج ساہیوال نے حکومتی دباؤ میں آکر فیصلوں سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دیا؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیشن جج اصغر ابراہیم نے حکومتی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں، اور حکومت پر تنقید کے نشر برسائے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ اس ویڈیو کو پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے شیئر کیا جارہا ہے۔ اور ساتھ یہ تبصرہ لکھا جارہا ہے کہ سیشن جج اصغر ابراہیم نے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے والے ججوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سیشن جج ساہیوال اصغر ابراہیم اپنی مدت ملازمت پوری کرکے 18 اگست کو ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کی ان کی ایک ویڈیو زیرگردش ہے جو درست ہے، لیکن انہوں نے دباؤ کے تحت استعفیٰ نہیں دیا یہ سراسر جھوٹ پر مبنی کہانی ہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر انہوں نے وہاں پر موجود عدالتی عملے اور وکلا سے گفتگو کی اور پھر کرسی کو چوما، جو منصب سے محبت کا اظہار ہے۔

سینیئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سیشن جج ساہیوال 18 اگست کو ریٹائر ہوئے ہیں، ان سے جو باتیں منسوب کی جارہی ہیں وہ من گھڑت ہیں۔ انہوں نے حکومتی دباؤ پر بالکل استعفیٰ نہیں دیا۔

ثاقب بشیر نے ساتھ ہی مزاحیہ انداز میں ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ جج صاحب کے قریبی ذریعوں سے میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ ان کو ٹک ٹاک کا شوق تھا، اسی لیے ریٹائرمنٹ کے دن وہ شوق پورا کیا اور ویڈیو وائرل ہوگئی۔

نتائج:۔ اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں کہ سیشن جج ساہیوال اصغر ابراہیم نے حکومتی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، وہ اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوئے ہیں۔

Author

تازہ ترین