سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیشن جج اصغر ابراہیم نے حکومتی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں، اور حکومت پر تنقید کے نشر برسائے جارہے ہیں۔ سب سے زیادہ اس ویڈیو کو پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے شیئر کیا جارہا ہے۔ اور ساتھ یہ تبصرہ لکھا جارہا ہے کہ سیشن جج اصغر ابراہیم نے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے والے ججوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔
ڈسٹرکٹ جج اصغر ابراہیم منصب سے علیحدہ ہو گئے pic.twitter.com/HQgYLaLCbt
— Sabir Shakir (@ARYSabirShakir) August 20, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سیشن جج ساہیوال اصغر ابراہیم اپنی مدت ملازمت پوری کرکے 18 اگست کو ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کی ان کی ایک ویڈیو زیرگردش ہے جو درست ہے، لیکن انہوں نے دباؤ کے تحت استعفیٰ نہیں دیا یہ سراسر جھوٹ پر مبنی کہانی ہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر انہوں نے وہاں پر موجود عدالتی عملے اور وکلا سے گفتگو کی اور پھر کرسی کو چوما، جو منصب سے محبت کا اظہار ہے۔
سینیئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سیشن جج ساہیوال 18 اگست کو ریٹائر ہوئے ہیں، ان سے جو باتیں منسوب کی جارہی ہیں وہ من گھڑت ہیں۔ انہوں نے حکومتی دباؤ پر بالکل استعفیٰ نہیں دیا۔
دلچسپ : یہ سیشن جج ساہیوال ابراہیم اصغر 18 اگست کو ریٹائرڈ ہوئے ہیں وائرل ویڈیو میں جو کوئی انقلاب ان سے منسوب کیا جا رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے ان جج صاحب کے قریبی ذریعوں سے میں نے پوچھا بتایا گیا کہ جج صاحب کو ٹک ٹاک کا شوق تھا انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے دن وہ شوق پورا کیا ویڈیو… pic.twitter.com/a3vTEnQOpN
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) August 20, 2025
ثاقب بشیر نے ساتھ ہی مزاحیہ انداز میں ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ جج صاحب کے قریبی ذریعوں سے میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ ان کو ٹک ٹاک کا شوق تھا، اسی لیے ریٹائرمنٹ کے دن وہ شوق پورا کیا اور ویڈیو وائرل ہوگئی۔
نتائج:۔ اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں کہ سیشن جج ساہیوال اصغر ابراہیم نے حکومتی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، وہ اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوئے ہیں۔

