spot_img

فیکٹ چیک: کیا مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ حکومت کا اسرائیل کو تسلیم کرنا قرآن و سنت کے مطابق ہوگا؟

سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 30 ستمبر کی ایک پریس کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا کرلیا تو وہ قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔

یہ ویڈیو 2 اکتوبر کو ایک فیس بک صارف نے شیئر کی، پوسٹ کے ساتھ یہ عبارت بھی منسلک تھی: ’لو جی یہودی ایجنٹ کا بڑا یوٹرن‘۔

سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں، اور مولانا فضل الرحمان پر تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقیقت جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ مولانا فضل الرحمان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے، انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔

اصل گفتگو میں کیا کہا گیا؟

پریس کانفرنس کا مکمل ریکارڈ جے یو آئی (ف) کے آفیشل فیس بک پیج پر دستیاب ہے۔ وہاں کے ریکارڈ کے مطابق، جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو ردِعمل کیا ہوگا؟

ساتھ ہی ایک مذہبی اسکالر کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے پر بھی تبصرہ مانگا، تو مولانا فضل الرحمٰن نے کہا: دیکھیں، میں اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں ہوں، انہوں نے جو بھی فیصلہ کیا ہوگا، یقیناً  قرآن و سنت کی روشنی میں ہی کیا ہوگا، کیوں کہ وہ ایک آئینی فورم ہے۔

پریس کانفرنس کے ایک اور حصے میں مولانا فضل الرحمان واضح طور پر کہتے سنائی دیتے ہیں کہ پاکستان میں کسی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

نتائج:۔ مولانا فضل الرحمان کا اسرائیل کے حوالے سے مؤقف دوٹوک ہے، انہوں نے کہیں پر ایسی گفتگو نہیں کی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔

Author

تازہ ترین