حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہے کہ لاہور اور پشاور میں واقع شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال سے 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کررہے تھے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں اسپتال پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس خبر کو بغیر تحقیق دھڑا دھڑ شیئر کررہے ہیں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
شوکت خانم ہسپتال سے مشکوک افراد گرفتار موساد اور را کا ایجنٹ بتایا جا رہا ہیں یہ ہسپتال نہیں پاکستان دشمنوں کا اڈا ھے
😎 pic.twitter.com/NFVrbduHa5— Raja Nisar (@RajaNis27078850) June 21, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے، شوکت خانم اسپتال سے موساد اور ’را‘ کے ایجنٹس کی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے ترجمان بخت منیر نے بھی میڈیا کو بتایا کہ شوکت خانم پشاور سے موساد یا ’را‘ کے کسی بھی ایجنٹ کی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
لاہور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز تصور اقبال نے بھی اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ لاہور میں واقع شوکت خانم اسپتال سے ایسی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
فیکٹ پلس کی تحقیق کے مطابق کسی معتبر قومی یا بین الاقوامی میڈیا ادارے نے بھی ایسی کسی گرفتاری کی اطلاع نشر نہیں کی ہے، جو اس دعوے کے جھوٹا ہونے کی تصدیق ہے۔
نتائج:۔ یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے اور سوشل میڈیا پر ایک من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں۔

