spot_img

پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کی خبریں، پی ٹی اے نے حقیقت واضح کردی

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی عائد کیے جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا ہے۔

پی ٹی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں واضح کیا کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک جعلی نوٹیفکیشن تیزی سے گردش کر رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم پی ٹی اے نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

پی ٹی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے سے گریز کریں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کسی بھی اطلاع کی تصدیق کے لیے پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ یا تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کیا جائے۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر ماضی میں کب کب پابندی لگی؟

پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ نیا نہیں۔ اس سے قبل بھی غیر اخلاقی اور نامناسب مواد سے متعلق شکایات پر مختلف اوقات میں اس پلیٹ فارم کی سروس معطل کی جا چکی ہے۔

اکتوبر 2020 میں پہلی مرتبہ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم کمپنی کی جانب سے غیر اخلاقی مواد پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بعد تقریباً 10 روز میں پابندی ختم کردی گئی۔

اس کے بعد مارچ 2021 میں پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا حکم دیا، تاہم اپریل میں ایپ کی سروس دوبارہ بحال کردی گئی۔

جون 2021 میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی نامناسب مواد کی موجودگی پر ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا، لیکن یہ پابندی صرف 3 روز بعد واپس لے لی گئی۔

اسی سال جولائی میں پی ٹی اے نے ایک مرتبہ پھر ٹک ٹاک کی سروس بلاک کردی۔ اس اقدام کی وجہ پلیٹ فارم کی جانب سے نامناسب مواد ہٹانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنا بتائی گئی تھی۔

اگست 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ عدالت نے پی ٹی اے کی جانب سے کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مکمل پابندی عائد کرنے کے اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر یہی اصول اپنایا جائے تو گوگل اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو بھی بند کرنا پڑے گا۔

عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد اس نوعیت کے معاملات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرے۔

بعد ازاں ٹک ٹاک انتظامیہ نے غیر اخلاقی مواد کی روک تھام اور اس کی نگرانی کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد نومبر 2021 میں پی ٹی اے نے پلیٹ فارم پر عائد پابندی ختم کردی تھی۔

Author

تازہ ترین