spot_img

فیکٹ چیک: سعودی وزیر دفاع کی ایرانی صدر کے ہاتھ چومنے کی وائرل تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نکلی

سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہاتھ چومنے کی مبینہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس کی تصویر کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں، اور مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں، تاہم فیکٹ چیک کی تحقیق کے مطابق یہ تصویر جعلی ہے، جسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اصل تصویر میں سعودی وزیر دفاع موجود ہی نہیں ہیں۔

فیکٹ چیکنگ ادارے آئی ویریفائی کے مطابق 26 اکتوبر سے فیس بک اور ایکس پر ایک تصویر گردش کررہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودی وزیر دفاع نے تہران میں مکہ دفاعی اتحاد سے متعلق اجلاس کے دوران ایرانی صدر کا ہاتھ چوما۔

یہ تصویر شیئر کرنے والوں میں متعدد ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر یمن کے حوثیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

26 اکتوبر کو ایران نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی میزبانی کی، جنہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے علاقائی اتحاد اور اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں اور امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کی مخالفت کریں۔

مذاکرات میں علاقائی سلامتی، ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتائج اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ سعودی عرب نے کہا کہ اس دورے کا مقصد بات چیت کو فروغ دینا اور قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا تھا۔

26 اکتوبر کو ایک ایسے ایکس صارف نے، جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر حوثیوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، ایک تصویر شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ایرانی صدر کا ہاتھ چوم رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے حامی ایک سوشل میڈیا صارف نے بھی یہی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’درحقیقت امن کا راستہ یہی ہے۔ تہران آؤ اور بیعت کرو۔ خوش آمدید، میرے محبوب۔‘

اس کے علاوہ حوثیوں کے حامی متعدد دیگر اکاؤنٹس نے بھی یہی تصویر فیس بک اور ایکس پر شیئر کی۔

تصویر کی حقیقت جاننے کے لیے کیا تحقیقات کی گئیں؟

آئی ویریفائی نے تصویر کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے متعلقہ الفاظ کی مدد سے انٹرنیٹ پر تلاش کی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا سعودی عرب، ایران یا کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ایسی کوئی تصویر شائع کی ہے یا سعودی وزیر دفاع کی جانب سے ایرانی صدر کا ہاتھ چومنے کا واقعہ رپورٹ کیا ہے۔

تاہم تلاش کے دوران کسی معتبر میڈیا ادارے کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی خبر یا تصویر سامنے نہیں آئی۔

تصویر کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر کئی غیر معمولی خامیاں بھی سامنے آئیں۔ سعودی عہدیدار کے ہاتھ اور انگلیوں کی ساخت میں بگاڑ پایا گیا، خصوصاً اس مقام پر جہاں وہ مبینہ طور پر ایرانی صدر کا ہاتھ چوم رہے ہیں۔

اسی طرح ایرانی صدر کے گال اور گردن کے حصوں میں بھی معمولی بگاڑ اور غیر فطری تبدیلیاں دیکھی گئیں، جن سے شبہ پیدا ہوا کہ تصویر کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔

اے آئی کی شناخت کرنے والے ٹولز کے نتائج

تصویر کی مزید جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ تصاویر کی شناخت کرنے والے متعدد ٹولز استعمال کیے گئے۔

اصل تصویر کہاں سے سامنے آئی؟

وائرل تصویر کی ریورس امیج سرچ کے دوران عرب نیوز کی 3 جولائی 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ سامنے آئی، جس میں ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی کوریج کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے آخری رسومات میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ میں شائع ہونے والی تصویر اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر میں واضح مماثلت پائی گئی۔ دونوں تصاویر کا پس منظر ایک جیسا تھا اور متعلقہ عہدیداروں کا لباس بھی ایک دوسرے سے ملتا تھا۔

تاہم دونوں تصاویر کے تقابلی جائزے سے ایک اہم فرق سامنے آیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں سعودی عہدیدار کو ایرانی صدر کا ہاتھ چومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ اصل تصویر میں وہ ایرانی صدر سے صرف مصافحہ کررہے ہیں۔

یہی اصل تصویر سعودی عرب کے خبر رساں ادارے سعودی گزٹ اور سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے بھی شائع کی تھی۔

دوسری جانب پاکستان میں سعودی عرب کے شاہی سفارت خانے کے میڈیا اتاشی آفس نے بھی وائرل تصویر کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے اور بہت سے لوگ اسے حقیقی سمجھ رہے ہیں، جس کے باعث عوام گمراہ ہو رہے ہیں اور غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔

سعودی سفارت خانے نے میڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ تصویر کی اصل حقیقت عوام کے سامنے لانے اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں تعاون کرے تاکہ مزید لوگ گمراہ نہ ہوں۔ سفارت خانے کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اور حقیقی تصاویر میں فرق واضح کرنے کے لیے میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔

نتیجہ: سعودی وزیر دفاع کے ایرانی صدر کا ہاتھ چومنے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ اصل تصویر میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان موجود ہی نہیں، بلکہ اس میں سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

Author

تازہ ترین