وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ پاکستان کا نورستان یا افغانستان میں کسی بھی اندرونی جھڑپ سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے دعوے من گھڑت ہیں۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق سابق افغان اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت کسی دہشت گرد گروہ کی سہولت کاری کے الزامات بھی مسترد کیے جاتے ہیں۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ The allegations by the Afghan Taliban regime linking Pakistan with the alleged violence in Nuristan are frivolous, baseless and devoid of any truth. Pakistan categorically rejects… pic.twitter.com/skowInbs0L
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) September 27, 2026
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ الزامات کے حق میں شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
وزارت کے مطابق سوشل میڈیا پر زیرِ گردش مبینہ ویڈیو بھی پاکستان سے کسی تعلق کو ثابت نہیں کرتی۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مسلسل رپورٹس افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، جبکہ افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت کا پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام باعثِ تعجب ہے۔
وزارت نے کہا کہ طالبان حکومت داخلی سلامتی کے مسائل کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ طالبان حکومت افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا کرے۔
وزارت کے مطابق غیر شمولیتی اور غیر نمائندہ طالبان حکومت کے ایسے جھوٹے دعوے داخلی اختلافِ رائے اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کی کوششوں کے بھی عکاس ہیں۔

