بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ گردش کررہا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے لاہور کی مختلف سڑکوں، چوکوں اور علاقوں کے وہ نام دوبارہ بحال کر دیے ہیں جو تقسیمِ ہند سے قبل سکھ، ہندو اور برطانوی دور میں رائج تھے۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ اسلام پورہ کا نام دوبارہ کرشن نگر، مصطفیٰ آباد کا دھرمپورا، رحمان گلی کا رام گلی جبکہ بابری مسجد چوک کا نام جین مندر چوک رکھ دیا گیا ہے۔
فیکٹ پلس کے مطابق بھارتی میڈیا کے یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ گمراہ کن ہیں، کیونکہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا سرکاری فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران جب متعلقہ حکام اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تو پنجاب ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کی کمیونیکیشن اسپیشلسٹ حفصہ جاوید خواجہ نے ان خبروں کو مکمل طور پر جعلی قرار دیا۔
اسی طرح ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے سی ای او شاہد کٹھیا نے بھی واضح کیا کہ لاہور میں کسی سڑک یا علاقے کا نام تبدیل نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی ترجمان تانیا قریشی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مختلف تجاویز ضرور زیرِ غور آئی تھیں، تاہم اب تک کوئی حتمی منظوری یا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
زمینی حقائق اور شہر میں موجود سائن بورڈز بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ پرانے اور موجودہ نام ایک ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مصطفیٰ آباد اور دھرمپورا دونوں ناموں کے بورڈز اب بھی مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ اسی طرح لکشمی چوک (مولانا ظفر علی خان چوک) اور ایبٹ روڈ (غزنی روڈ) پر بھی دونوں نام دیکھے جا سکتے ہیں۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ مارچ اور اپریل 2026 میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں لاہور کی تاریخی شناخت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا تھا۔
اس مجوزہ منصوبے کا مقصد ان تاریخی ناموں کو اجاگر کرنا تھا جو اگرچہ ماضی میں تبدیل کیے جا چکے ہیں، لیکن عوام میں آج بھی انہی پرانے ناموں سے مشہور ہیں، جیسے جین مندر یا ٹیمپل روڈ۔
بھارتی میڈیا نے انہی ابتدائی تجاویز اور ہیریٹیج منصوبے کو بڑھا چڑھا کر اس انداز میں پیش کیا جیسے حکومتِ پنجاب نے باضابطہ طور پر سڑکوں اور علاقوں کے نام تبدیل کرکے نئے سائن بورڈز بھی نصب کر دیے ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے تاریخی ناموں کی بحالی کا معاملہ تاحال صرف مشاورت اور تجویز کی سطح پر موجود ہے اور حکومتِ پنجاب نے اس حوالے سے کوئی عملی یا سرکاری اقدام نہیں اٹھایا۔

