سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی ہے کہ حکومت نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو صرف 10 ارب روپے میں فروخت کردیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس خبر کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
400ارب کا صرف ایک ہوٹل رکھنے والی پوری اہیر لائن صرف 10 ارب میں بیچ دی۔۔۔۔۔۔۔اندازہ کریں کیسے معاشی ہٹ مین لگائے گیے جو اپنے چند روپوں کے لیے پورا ملک کیوں نہیں بیچیں گیں۔
— Sabee Kazmi (@SabeeKazmi786) December 23, 2025
’فیکٹ پلس‘ کی تحقیق کی مطابق معروف کاروباری گروپ عارف حبیب نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خریدا ہے۔
عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
پی آئی اے کی نجکاری کے دوران عارف حبیب گروپ اور لکی کنسورشیم میں سخت مقابلہ ہوا، تاہم لکی کنسورشیم 134 ارب روپے پر جا کر پیچھے ہٹ گئی اور مزید بولی نہ دی، جس پر عارف حبیب گروپ کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا۔
پی آئی اے کو خریدنے کے لیے 3 کمپنیوں نے بولی جمع کرائی تاہم ایئر بلیو پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئی تھی، کیوں کہ انہوں نے سب سے کم 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی۔
پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ نے سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی بولی لگائی۔ اس کے علاوہ لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے، جبکہ ایئر بلیو کی جانب سے 26 ارب، 50 کروڑ کی بولی لگائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی ریزرو قیمت 100 ارب روپے رکھی تھی، جس کے باعث ایئربلیو پہلے مرحلے میں ہی بولی کے عمل سے باہر ہوگئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہونے والی بولی صرف ایک خریدار بلیو ورلڈ سٹی نے شرکت کی تھی، اور 10 ارب روپے کی بولی تھی، جس کے بعد نجکاری کا عمل مؤخر کردیا گیا تھا۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں موجود ہوٹل نجکاری کا حصہ نہیں ہیں، اور مشیر نجکاری محمد علی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
نتائج:۔ عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے ہیں، صرف 10 ارب میں قومی ایئر لائن کو بیچنے کی خبر فیک نیوز ہے۔

