سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ گردش کررہا ہے کہ حکومت پاکستان نے پاسپورٹ کا ڈیزائن تبدیل کرنے کی آڑ میں اسرائیل سے متعلق مخصوص عبارت ختم کردی ہے۔
بھارتی میڈیا پر بھی ان دعوؤں کی بنیاد پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، اور سوشل میڈیا صارفین ایسی خبروں کو بغیر تحقیق شیئر کرتے ہوئے مختلف تبصرے کررہے ہیں، اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اصلی نسلی اسرائیلی یہودی قادیانی پاکستان ن لیگ کے کالے کارنامے ۔🚨🚨کیا یہ بات سچ ہے پاکستان اب اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں رہا ؟ کیونکہ ڈی جی پاسپورٹ نے بھی پرانے پاسپورٹ کی تصویر لگا کر ٹوئٹ کی ہے لیکن نئے پاسپورٹ کی تصویر نہیں لگائی کیوں ؟ یا پہلے عوام کا ریکشن چیک کرنے کے… pic.twitter.com/eOOmdPZBfN
— SSG of Pti (@ssgviews) October 29, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقیقت جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس حوالے سے تمام خبریں ’فیک نیوز‘ ہیں، پاسپورٹ کے سیکیورٹی فیچرز سمیت کچھ ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
فیکٹ پلس کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ڈیزائن والے پاسپورٹ پر اسرائیل سے متعلق مخصوص عبارت اب بھی موجود ہے۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات نے ایک بھارتی نیوز چینل کے ان غیر تصدیق شدہ دعوؤں کی تردید کی ہے کہ پاکستان نے اپنے پاسپورٹ سے یہ شق ہٹا دی ہے کہ یہ اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں۔
وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں وزارتِ خارجہ کے ایک پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بدستور قائم ہے، اسلام آباد اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اور کسی بھی قسم کا فوجی تعاون یا تعلقات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی زیرِ بحث ہیں۔
اس کے علاوہ وزارت نے واضح کیاکہ پاسپورٹ کی شق برقرار ہے۔
پاکستان کا پورا پاسپورٹ تبدیل ہوگیا، لیکن ایک جملے کو حرف بہ حرف اُسی طرح لکھا گیا ہے جیسے ہونا چاہیے تھا، “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ملکوں کے لیے کارآمد ہے”!
بلکہ اب کی بار یہ جملہ 2 صفحوں پر لکھ دیا گیا ہے، صفحہ نمبر 3 اور 4! pic.twitter.com/vJWqAWIvKU
— Voice of PMLN (@VoiceOf_PMLN) October 23, 2025
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس پر اب بھی ’سوائے اسرائیل کے تمام ممالک کے لیے کارآمد‘ درج ہے۔
نتائج:۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے نئے پاسپورٹ پر ’یہ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے‘ درج ہے، بھارتی میڈیا پر ہونے والا پروپیگنڈا اور سوشل میڈیا کی خبریں من گھڑت ہیں۔

