خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں حالیہ پرتشدد واقعات کے تناظر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کلپ امن مظاہرے پر فورسز کی فائرنگ کا ہے، تاہم تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مذکورہ ویڈیو گزشتہ برس جولائی میں بنوں میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران کی ہے۔
پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر کئی سیاستدانوں اور صارفین نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں معصوم بچے فائرنگ کی آوازوں کے دوران زمین پر لیٹے دکھائی دیے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر، سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اور صحافی عمران ریاض خان سمیت کئی نمایاں شخصیات نے ویڈیو کو موجودہ تیراہ واقعے سے جوڑ کر اسے حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔
اس قدر شدید فائرنگ کی گئی تیراہ میں
سانحہ چھبیس نومبر میں بھی ایسے ہی فائرنگ کی گئی تھی pic.twitter.com/6nlKRZ1N2l
— 𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶 (@Lalika79) July 27, 2025
فیکٹ پلس کی ٹیم نے ان دعوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہی ویڈیو جولائی 2024 میں بھی گردش کر چکی ہے۔ اس وقت بنوں میں ایک امن مارچ کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں فائرنگ اور بھگدڑ سے جانی نقصان ہوا تھا۔
فیکٹ پلس کے مطابق یہ ویڈیو نہ صرف اس وقت بھی وائرل ہوئی تھی بلکہ متعدد صارفین نے تب ہی اسے بچوں پر مبینہ فائرنگ کے شواہد کے طور پر پیش کیا تھا۔
واضح رہے کہ تیراہ میں مظاہرین کی جانب سے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کے سامنے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اسی دوران فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں معصوم شہری شہید ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہریوں کی شہادت کی مذمت بھی کی تھی۔
نتائج:۔ یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو تیراہ میں حالیہ مظاہرے کے دوران فائرنگ کا منظر پیش کرتی ہے، غلط ہے۔ ویڈیو دراصل پرانے واقعے سے متعلق ہے جسے موجودہ صورتحال سے جوڑ کر غلط تناظر میں پیش کیا گیا۔

