پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں شراکت داری یا اپارٹمنٹس کی ملکیت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں اس منصوبے میں شمولیت یا فلیٹس کی ملکیت کا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ میں 9 اپریل 2026 کو بھی اس حوالے سے وضاحت کر چکا ہوں۔
اسلام آباد میں constitution -1 پراجیکٹ میں شراکت داری یا عمارت میں کچھ اپارٹمنٹس کی ملکیت مجھ سے منسوب کرنیکی سوشل میڈیا مہم کل رات سے چلائ جا رھی ھے جبکہ میں اس کی وضاحت
9 اپریل 26 کو محترم مطیع اللّٰہ جان کی ٹویٹ کے جواب میں پہلے ھی کر چکا ھوں ۔۔الزامات لگانے والے کون ھیں… https://t.co/aswgKKpa5K
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) May 3, 2026
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ الزامات لگانے والے کون لوگ ہیں، اور مختلف گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان میں بعض پی ٹی آئی کے حامی، کچھ مخالفین، کچھ سیاسی عناصر اور کچھ ایسے افراد شامل ہیں جو بے بنیاد الزامات لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سعد رفیق نے واضح کیاکہ نہ ان کا اور نہ ہی ان کے خاندان کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں کوئی اپارٹمنٹ ہے اور نہ ہی اس منصوبے میں کبھی کوئی سرمایہ کاری کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کچھ دوستوں اور جاننے والوں کے وہاں اپارٹمنٹس ہیں، اور یہ انہی کو مبارک ہوں۔
انہوں نے منصوبے کے حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سی ڈی اے کو ہونے والے نقصان کی مکمل وصولی کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کرے۔ ساتھ ہی مکمل ادائیگی کرنے والے تصدیق شدہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
سعد رفیق نے مزید کہاکہ ان ریگولیٹرز اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے سی ڈی اے کو ادائیگی نہ ہونے کے باوجود زیر تعمیر عمارت کی تعمیر اور فروخت کو نہیں روکا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت تمام فریقین کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وضاحت کے باوجود اگر جھوٹا پروپیگنڈا جاری رہا تو قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
دریں اثنا ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے واضح کیاکہ سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس کی جانب سے ایک جعلی بیان پھیلایا جا رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن ون کے کچھ اپارٹمنٹس خواجہ سعد رفیق کے نام پر منتقل نہیں ہوئے بلکہ مبینہ طور پر ان کے میڈیا مینیجر کے نام پر منتقل کیے گئے۔
کانسٹیٹیوشن ون پراجیکٹ سے خواجہ سعد رفیق کے کوئ تعلق نہ ھونے کی واضح تردید اور اسکے وائرل ھونے کے بعد ریموٹ کنٹرول سے چلاۓ جانے والے بعض اکاؤنٹس خواجہ سعد رفیق کے ایک جعلی بیان کو پھیلا رھے ھیں جسمیں کہا جا رھا ھے کہ Constitution-1 کے کچھ اپارٹمنٹس
خواجہ صاحب کے نام پر نہیں…— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) May 4, 2026
سعد رفیق کے اکاؤنٹ سے ہونے والی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کا کوئی میڈیا مینیجر نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز سے ایک مخصوص گروہ اس قسم کی جعلی خبروں کو پھیلانے میں مصروف ہے اور مختلف من گھڑت دعوے کیے جا رہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

