spot_img

سعد رفیق پر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں اپارٹمنٹس کی ملکیت کا الزام، لیگی رہنما نے خاموشی توڑ دی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں شراکت داری یا اپارٹمنٹس کی ملکیت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں اس منصوبے میں شمولیت یا فلیٹس کی ملکیت کا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ میں 9 اپریل 2026 کو بھی اس حوالے سے وضاحت کر چکا ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ الزامات لگانے والے کون لوگ ہیں، اور مختلف گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان میں بعض پی ٹی آئی کے حامی، کچھ مخالفین، کچھ سیاسی عناصر اور کچھ ایسے افراد شامل ہیں جو بے بنیاد الزامات لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سعد رفیق نے واضح کیاکہ نہ ان کا اور نہ ہی ان کے خاندان کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں کوئی اپارٹمنٹ ہے اور نہ ہی اس منصوبے میں کبھی کوئی سرمایہ کاری کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کچھ دوستوں اور جاننے والوں کے وہاں اپارٹمنٹس ہیں، اور یہ انہی کو مبارک ہوں۔

انہوں نے منصوبے کے حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سی ڈی اے کو ہونے والے نقصان کی مکمل وصولی کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کرے۔ ساتھ ہی مکمل ادائیگی کرنے والے تصدیق شدہ خریداروں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

سعد رفیق نے مزید کہاکہ ان ریگولیٹرز اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے سی ڈی اے کو ادائیگی نہ ہونے کے باوجود زیر تعمیر عمارت کی تعمیر اور فروخت کو نہیں روکا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت تمام فریقین کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وضاحت کے باوجود اگر جھوٹا پروپیگنڈا جاری رہا تو قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

دریں اثنا ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے واضح کیاکہ سوشل میڈیا پر بعض اکاؤنٹس کی جانب سے ایک جعلی بیان پھیلایا جا رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن ون کے کچھ اپارٹمنٹس خواجہ سعد رفیق کے نام پر منتقل نہیں ہوئے بلکہ مبینہ طور پر ان کے میڈیا مینیجر کے نام پر منتقل کیے گئے۔

سعد رفیق کے اکاؤنٹ سے ہونے والی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کا کوئی میڈیا مینیجر نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز سے ایک مخصوص گروہ اس قسم کی جعلی خبروں کو پھیلانے میں مصروف ہے اور مختلف من گھڑت دعوے کیے جا رہے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Author

تازہ ترین