spot_img

فیکٹ چیک: کیا روسی صدر نے پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد جہاں سرحدوں پر صورت حال کشیدہ ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی ایک جنگ لڑی جا رہی ہے، اور اس دوران افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

’فیکٹ پلس‘ نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے، روسی صدر نے پاکستان کے خلاف کوئی دھمکی آمیز بیان نہیں دیا۔

دوسری جانب پاکستان میں روسی سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو پر اپنا وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

سفارت خانے نے کہاکہ آج کل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ دراصل یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کلپ 23 اکتوبر 2025 کو روسی جغرافیائی سوسائٹی کی بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن کی میڈیا سے گفتگو کا ہے، جس میں انہوں نے مختلف عمومی سوالات کے جوابات دیے۔ اصل بیان میں صدر پیوٹن نے نہ پاکستان کا ذکر کیا اور نہ ہی افغانستان کا۔

سفارتخانے نے کہاکہ ہم یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ روس پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔ روس اس امر کا حامی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مکالمہ جاری رکھا جائے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی کے معاملات پر بامعنی روابط کو فروغ دیا جائے۔

نتائج:۔ یہ دعوے گمراہ کن ہیں کہ روسی صدر پیوٹن نے پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

Author

تازہ ترین