spot_img

فیکٹ چیک: کیا قاسم خان نے عمران خان کی رہائی کے لیے اسرائیل سے مدد لینے کا بیان دیا؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی پاکستانی جیل سے رہائی کے لیے اسرائیل کی مدد کے خواہاں ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک صارف نے عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی جانب سے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کا ایک کلپ شیئر کیا۔

انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا: ’میرے والد عمران خان نے امریکا سے آزادی مانگ کر غلطی کی تھی، ہم اس پر شرمندہ ہیں، اب امریکا سے گزارش ہے کہ وہ عمران خان کو آزاد کرائیں، ہماری نظریں اسرائیل کی طرف ہیں، میرے والد نے اسرائیل کے لیے بہت کچھ کیا ہے، اب وہ بھی ہماری مدد کریں۔‘

سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو بغیر تحقیق دھڑا دھڑا شیئر کررہے ہیں اور مختلف تبصرے بھی کیے جارہے ہیں۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے، قاسم خان نے اپنے انٹرویو میں اسرائیل سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔

فیکٹ پلس کے مطابق 29 جولائی کو ’ریل امریکاز وائس نیوز‘ نے قاسم خان کا دورہ امریکا کے دوران انٹرویو کیا۔

میزبان نے قاسم خان سے سوال کیا ’آپ کے والد کے اتحادی کون ہیں، چاہے پاکستان میں ہوں یا دنیا میں، جو ان کی مدد کر سکتے ہیں؟‘

قاسم خان نے جواب دیتے ہوئے کہا ’فی الحال ہم امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہاں کے بہت سے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لگتا ہے کہ اس وقت یہی واحد راستہ ہے، کیونکہ وہاں کی اسٹیبلشمنٹ اقوام متحدہ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دے رہی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی قید ہے، اس لیے، فی الحال ہم امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘

یہ 9 منٹ کا مکمل انٹرویو ’ریل امریکاز وائس نیوز‘ کی ویب سائٹ پر موجود ہے جسے سنا جا سکتا ہے۔

انٹرویو کے کسی بھی حصے میں قاسم خان نے یہ نہیں کہاکہ ان کے والد نے امریکا سے آزادی مانگ کر غلطی کی، نہ یہ کہا کہ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کی، اور نہ ہی یہ کہ اسرائیل کو ان کی رہائی میں مدد کرنی چاہیے۔

نتائج:۔ عمران خان کے بیٹے قاسم خان کے انٹرویو سے متعلق پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، اصل گفتگو میں اسرائیل سے متعلق کوئی ذکر نہیں۔

Author

تازہ ترین