spot_img

فیکٹ چیک: کیا سی ایم ایچ راولاکوٹ میں مریضوں پر تشدد کی ویڈیوز اصلی ہیں؟

کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملے کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے اسپتال پر دھاوا بولا، مریضوں پر تشدد کیا اور اس دوران ایک زخمی پولیس اہلکار کو بہیمانہ تشدد کرکے جان سے مار دیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور مخالفین میں بحث جاری ہے۔ ایکشن کمیٹی کے حامی کہتے ہیں کہ یہ ویڈیو راولاکوٹ کی ہے ہی نہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے واقعی مریضوں پر تشدد کیا ہے۔

فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو بالکل درست ہے، ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر نے اسپتال پر دھاوا بولا، اس دوران مریضوں پر تشدد کیا اور زخمی پولیس اہلکار کو تشدد کرتے ہوئے جان سے مار دیا۔

اسپتال میں ایک اہم پوسٹ پر موجود ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فیکٹ پلس کو بتایا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر اچانک حملہ آور ہوئے اور مریضوں پر تشدد کرنا شروع کردیا، اور اس دوران کسی کو بھی نہیں بخشا گیا۔

اس سے قبل بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں اسپتال پر دھاوے کے مناظر دکھائے گئے، تاہم ایکشن کمیٹی نے اس سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا، مگر سی ایم ایچ میں موجود ذرائع نے اس ویڈیو کے بھی اصلی ہونے کی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین راولاکوٹ میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والے تصادم میں اب تک ڈیڑھ درجن سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں 4 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

نتائج:۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملے کی دونوں ویڈیوز درست ہیں۔

Author

تازہ ترین