spot_img

میجر جنرل فیصل نصیر سے منسوب وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی، دعویٰ بے بنیاد نکلا

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور فیس بک پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے، جسے متعدد بھارتی اور پاکستان مخالف اکاؤنٹس نے شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں آئی ایس آئی کے آفیسر میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم دستیاب شواہد اور فیکٹ چیک سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔

وائرل دعوے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

30 مئی 2026 کو ایک ایسے ایکس اکاؤنٹ نے، جو اپنی سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر ریاست مخالف مؤقف رکھتا دکھائی دیتا ہے، ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پوسٹ کے ساتھ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ مذکورہ افسر ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس کے اگلے روز مختلف بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے اسی ویڈیو کو نئے دعوؤں کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیا۔

بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ویڈیو میں میجر جنرل فیصل نصیر موجود ہیں اور انہیں مبینہ طور پر طے شدہ رقم ادا نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور پاکستان مخالف اکاؤنٹ نے بھی 31 مئی کو یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسی نوعیت کے الزامات دہرائے۔ اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین نے بھی ویڈیو کو مختلف دعوؤں کے ساتھ پھیلایا۔

فیکٹ چیک میں کیا سامنے آیا؟

وائرل دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے ویڈیو کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اور تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کو ایک بھارتی صارف نے ایکس پر شیئر کی تھی۔ اس پوسٹ میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ ویڈیو تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی کا منظر دکھاتی ہے۔

پوسٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا تھائی خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے تشدد کا نشانہ بنا تھا، جسے بعد ازاں علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال منتقل کیا گیا۔

بھارتی میڈیا نے بھی اسی واقعے کی تصدیق کی

مزید چھان بین کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ سامنے آئی جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا۔ اس خبر میں بھی یہی ویڈیو استعمال کی گئی تھی اور واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق راج جسوجا نامی بھارتی شہری کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں اس وقت تشدد کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ شخص کو چہرے اور سر پر زخموں کی حالت میں پایا، جسے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

نتیجہ: وائرل دعویٰ حقائق کے منافی قرار

فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔

دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ ویڈیو کا تعلق جنوری 2026 میں تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پیش آنے والے ایک واقعے سے ہے، جس میں ایک بھارتی شہری راج جسوجا ملوث تھا۔ ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر، آئی ایس آئی یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

اس طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا مذکورہ دعویٰ گمراہ کن ثابت ہوا ہے اور اس کی تائید میں کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔

Author

تازہ ترین