spot_img

فیکٹ چیک: افغانستان میں پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

افغان طالبان رجیم کے خلاف پاک افواج کی کارروائی کے بعد بھارتی اور افغان میڈیا میں پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم تیز ہو گئی۔ مختلف آفیشل اکاؤنٹس کے ذریعے ایسے دعوے نشر کیے گئے جنہیں پاکستانی حکام نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ننگرہار میں پاکستانی لڑاکا طیارہ گرایا گیا اور پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تاہم وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے ان دعوؤں کو من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی پاکستانی طیارے کے نقصان یا پائلٹ کی گرفتاری کی کوئی تصدیق موجود نہیں۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق نہ تو پاکستانی حکام، نہ عالمی میڈیا اور نہ ہی دفاعی اداروں نے ایسے کسی واقعے کی توثیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کے اس دعوے کو بھارتی میڈیا اور بعض افغان ذرائع نے بغیر تصدیق وسیع پیمانے پر پھیلایا۔

مزید بتایا گیا کہ افغانستان کی جانب سے بطور ثبوت جاری کی گئی تصویر دراصل 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے روسی طیارے کے حادثے سے متعلق ہے، جسے موجودہ صورتحال سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق کی عدم موجودگی میں ایسے دعوے گمراہ کن ہیں اور انہیں سیاسی و عسکری ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف بیانیہ گھڑ کر اور بعد ازاں سوشل میڈیا پوسٹس حذف کر کے پروپیگنڈا کرنا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارتی اور بعض افغان ذرائع ابلاغ کی جانب سے پاکستان مخالف منفی مہم اب ایک منظم رجحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں، جس سے سینکڑوں افغان طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔

Author

تازہ ترین