سوشل میڈیا پر بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی سے منسوب مبینہ نوٹیفکیشنز وائرل ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اگر کیمپس میں مرد و خواتین جوڑے کھڑے دکھائی دیے تو موقع پر ہی نکاح کردیا جائےگا۔
اس دعوے نے حساس مذہبی تناظر کے باعث طلبہ، والدین اور عوام میں تشویش اور الجھن پیدا کردی۔
بحریہ یونیورسٹی میں رمضان کے دوران اکھٹے گھومنے والے جوڑوں کو اپنا ولیمہ ارینج کرنا پڑے گا ۔۔۔ pic.twitter.com/M8JJJFi4nG
— Ruhma Irfan Malik (@iruhmamalik) February 22, 2026
تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ نوٹیفکیشنز من گھڑت ہیں اور ان کا بحریہ یونیورسٹی اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں۔
وائرل خط میں کہا گیا تھا کہ رمضان کے دوران جوڑے کی صورت میں موجود طلبہ کو کیمپس میں اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری نکاح کا اہتمام کیا جائے گا، حتیٰ کہ شادی اور ولیمے کے اخراجات بھی متعلقہ افراد خود برداشت کریں گے۔
حقائق کی جانچ پڑتال کے دوران متعدد تضادات سامنے آئے۔ جس کے مطابق بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں عائشہ رحمان نامی کوئی خاتون اس عہدے پر موجود نہیں۔ اگرچہ ادارے میں انتظامی عہدے موجود ہیں، تاہم مذکورہ نام کی کوئی شخصیت اس حیثیت میں خدمات انجام نہیں دے رہی۔

مزید برآں دونوں یونیورسٹیوں سے منسوب نوٹیفکیشنز جامعات کے آفیشل لیٹرہیڈ پر جاری نہیں کیے گئے اور نہ ہی یونیورسٹیوں کی سرکاری ویب سائٹ یا تصدیق شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ایسی جعلی خبریں اس وقت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں جب ان میں کسی معروف ادارے کا نام، مذہبی موقع کا حوالہ اور سرکاری انداز اپنایا جائے، کیونکہ یہ عوامل عوامی جذبات کو متحرک کرتے ہیں اور لوگ بغیر تصدیق کے مواد کو آگے شیئر کر دیتے ہیں۔

