spot_img

فیکٹ چیک: حافظ نعیم الرحمان کی مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، حقیقت کیا ہے؟

جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے منسوب ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ کراچی میں نکالی گئی ریلی میں پیسے دے کر لوگوں کو لانے کا کہہ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی نے یکم فروری کو کراچی میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا جس سے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل مبینہ آڈیو میں حافظ نعیم الرحمان لوگوں کو لالچ دے کر اکٹھا کرنے اور پیسے تقسیم کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

آڈیو میں مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب کے خلاف تقریر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آڈیو میں مبینہ طور پر یہ الفاظ شامل ہیں کہ لوگوں کو ہزار ہزار روپے دے کر لے آؤ۔ اور منعم کو پیسے دے دیے گئے ہیں۔

فیکٹ پلس کی جانب سے کی گئی تفصیلی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ آڈیو تکنیکی اور مواد کے اعتبار سے مشکوک ہے اور اس میں ردوبدل کے واضح شواہد موجود ہیں۔

تحقیق کے مطابق آڈیو میں آواز کی ساخت، جملوں کا تسلسل اور پسِ منظر کی آوازیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسے جوڑ کر تیار کیا گیا ہے۔

فیکٹ پلس کا کہنا ہے کہ آڈیو کے مستند ہونے کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں، جبکہ اسے کسی مصدقہ ذریعے سے جاری بھی نہیں کیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس آڈیو کو سیاسی مقصد کے تحت پھیلایا جا رہا ہے تاکہ غلط فہمی اور اشتعال پیدا کیا جا سکے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی نے بھی مبینہ آڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے ایسے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔

نتائج:۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی وائرل آڈیو فیک ہے۔

Author

تازہ ترین