سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) نے طلبا کو کیمپس میں پشاوری چپل پہننے سے روک دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین دعویٰ کررہے ہیں کہ نمل نے پشاوری چپل پہن کر طلبہ کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
🔴 #NUML University has banned Peshawari chappal, and #AirUniversity has banned shalwar kameez as part of their dress codes. #Islamabad pic.twitter.com/zjzHeLCIXA
— The Witness (@Islamabadies) November 2, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے، یونیورسٹی نے ایسا کوئی ڈریس کوڈ جاری نہیں کیا۔
نمل یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر وقاص احمد نے میڈیا کو بتایا کہ یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے آفیشل نوٹیفکیشن میں کہیں بھی پشاوری چپل یا شلوار قمیض پر پابندی کا ذکر نہیں ہے، اور سی سی ٹی وی فوٹیجز میں طلبہ دونوں لباس پہن کر کیمپس میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ 2 طلبہ نے بھی میڈیا کو بتایا کہ کوئی نئی ہدایات یا پابندی نہیں لگائی گئی۔ ایک طالب علم نے کہاکہ میں شلوار قمیض اور پشاوری چپل پہن کر یونیورسٹی آیا، اور کسی نے روکا نہیں۔
نتائج:۔ نمل یونیورسٹی نے پشاوری چپل پہن کر طلبا کے داخلے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، وائرل خبر فیک نیوز ہے۔

