سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ معروف اسلامی اسکالر مولانا طارق جمیل نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی جیل سے رہائی کے لیے خصوصی دعا کی ہے، اور انہیں بہترین، سچا، درویش اور دین دار لیڈر قرار دیا ہے۔
مبینہ ویڈیو میں مولانا طارق جمیل کی ایک تقریر کو عمران خان کی حمایت کے بیانات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا، جس سے تاثر دیا گیا کہ مولانا نے سیاسی طور پر سابق وزیراعظم کی کھل کر تائید کی ہے۔
🚨تمام محب وطن انصافیوں پاکستانیوں
امت مسلمہ لیڈر عمران خان کے حق میں مانگی گئی مولانا طارق جمیل صاحب کی اس دعا میں شامل ہو جایں امین کہے بغیر پٹواری ہی اگے گزر سکتے ہیں
انصافی اور پاکستانی عوام عظیم لیڈر عمران خان کے حق میں پوسٹیں کرتے ہیں مگر ہماری اصلی محبت اور طاقت… pic.twitter.com/WlTq4qNn4G— Rabbia Bibi (@Rabbia223344) July 20, 2025
فیکٹ پلس نے اس حوالے سے تحقیق کی اور حقائق جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو ایڈیٹ کی گئی ہے اور اس میں شامل آڈیو مولانا طارق جمیل کی پرانی تقاریر میں سے لی گئی ہے، جسے نئی فوٹیج کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
دوسری جانب خود مولانا طارق جمیل نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔
میری ملائیشیا کی مسجد میں کی گئی تقریر کو سوشل میڈیا پر پرانی آڈیو کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں تالیوں کی آواز اور سیاسی مفہوم شامل کر کے ویڈیو کا اصل پیغام بدل دیا گیا ہے۔
یہ عمل درست نہیں، نہ ہی دیانت داری کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
ملائیشیا کے بیان کے ترجمان نے بھی اس کی…— Tariq Jamil (@TariqJamilOFCL) July 22, 2025
اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میری ملائیشیا کی مسجد میں کی گئی تقریر کو سوشل میڈیا پر پرانی آڈیو کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں تالیوں کی آواز اور سیاسی مفہوم شامل کرکے ویڈیو کا اصل پیغام بدل دیا گیا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے مزید کہاکہ یہ عمل غیر اخلاقی اور دیانت داری کے منافی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک ویڈیو لنک بھی شیئر کیا جس میں ملائیشیا میں ان کے مترجم نے واضح طور پر کہاکہ میں مولانا طارق جمیل کا مترجم تھا۔ انہوں نے عمران خان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ ویڈیو جھوٹ اور فتنے پر مبنی ہے۔
نتائج:۔ مولانا طارق جمیل کی طرف سے عمران خان کی رہائی یا حمایت میں کسی بھی قسم کی براہِ راست دعا یا بیان نہ صرف غلط طریقے سے جوڑا گیا بلکہ اس کی مولانا طارق جمیل نے واضح طور پر تردید بھی کردی ہے۔

