خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں رواں ماہ کے آغاز میں پولیس نے سڑکوں پر نکل پر مطالبات کے حق میں احتجاج کیا تھا، اور ان کے دیگر 6 مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فوج 6 روز کے اندر ضلع سے نکل جائے۔
پولیس یونٹس کے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ دھرنا 12 ستمبر کو ختم ہوگیا تھا۔
دھرنے کے اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مظاہرین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے 15 روز کے اندر ضلع سے فوج کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
مذاکرات کامیاب آرمی 15 دن کے اندر لکی مروت چھوڑ دے گی pic.twitter.com/Yl2kw5eolI
— Ch.Shahzad Gill (@ShahzadGill202) September 12, 2024
فیکٹ پلس نے سوشل میڈیا پر چلنے والے اس دعوے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ضلع لکی مروت فہد وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے میں کوئی صداقت نہیں، ابھی تک صوبائی حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہاکہ فوج یہ پورا ضلع نہیں چھوڑ سکتی، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خود آپریشنل علاقے کو کم کردیا جائے۔
اس کے علاوہ محکمہ داخلہ اور قبائلی امور کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے بھی تصدیق کی کہ مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیاکہ اتنے دنوں میں فوج یہاں سے چلی جائے گی۔